کاروار:21/مئی (ایس اؤنیوز)برقعہ کی مخالفت میں ملک بھر میں بہت کچھ ہورہاہے، وہیں کچھ لوگ برقعہ کی آڑ میں مسلمانوں کی نمائندگی کو ظاہر کرنے کی جھوٹی کوششیں بھی کررہے ہیں لیکن اسی برقعہ کو لے کر کیا کچھ کیا جارہاہے اس کی ایک تازہ مثال کاروار بس اسٹانڈ پر پیش آئی ہے۔ شہر کے بس اسٹانڈ پر دو برقعہ پوش لڑکیوں کی مخنثوں سے ملاقات کو لے کر شکوک میں مبتلا عوام نے انہیں پولس کے حوالے کئے جانے کا واقعہ پیش آیا ہے۔
موصولہ اطلاع کے مطابق 2برقعہ پوش لڑکیاں مخنثوں کے ساتھ عوامی ٹائیلٹ گئیں اور وہاں قریب 25منٹ گزارنے کے بعدباہر نکل کر گوا کی بس میں سوار ہوگئی، جس کے بعد ان دونوں نے برقعہ اُتار دیا ۔ اس بات کو نوٹ کرتے ہوئے کچھ لوگوں نے کے ایس آرٹی سی عملے کو اطلاع دی اورعملے نے ان دونوں کو پولس کے حوالے کردیا۔
کنڑا اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق رانی بنور بس سے کاروار پہنچے 4مخنث میں سے ایک مخنث کو دوپہر قریب 3بجے تک بس اسٹانڈ پر موبائیل میں مگن دیکھا گیا۔ جس کےبعد 2لڑکیاں بس اسٹانڈ پر پہنچ کر ان کے ساتھ گفتگو میں شریک ہوگئیں، ان دونوں لڑکیوں میں سے ایک برقعہ پہنی ہوئی تھی، بعد میں دوسری لڑکی بھی بس اسٹائنڈ کے پیچھے جاکر برقعہ پہن لیا، پھر دونوں لڑکیاں بس اسٹانڈ پر موجود مخنث کے ساتھ عوامی ٹائلیٹ کے اندر چلی گئیں اور 25منٹ کے بعد تینوں باہر نکلے۔ اس دوران لڑکی کو بس اسٹانڈ پر ہی برقعہ پہنتے ہوئے دیکھ کر بس اسٹانڈ کے عملے نے شک کی بنیاد پر پولس کو اطلا ع دی، جس پر پولس نے تینوں کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ عوامی سطح پر یہ سوال گردش کررہاہے کہ آخر ایک کالج کے یونیفارم میں ملبوس لڑکی برقعہ پہن کر مخنث کے ساتھ ٹائلیٹ میں 25منٹ تک کیا کررہی تھی ۔
لڑکیوں نے جھوٹ کیوں بولا؟
25منٹ تک عوامی ٹائلیٹ میں مخنث کے ساتھ موجود رہ کر باہر نکلی 2برقعہ پوش لڑکیوں سے جب پولس نے پوچھ تاچھ کی تو ایک لڑکی نے پہلے بتایا کہ وہ سداشیو گڑھ سےتعلق رکھتی ہے اور اس کانام انکیتا نائک ہے ۔ جبکہ پولس کو بعد میں پتہ چلا کہ ان میں سے ایک لڑکی سداشیو گڑھ سے تعلق رکھتی ہے تو دوسری ہبوواڑہ کی ہے، ایسے میں یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ان میں سے ایک لڑکی پولس عملے کی بیٹی ہے۔ بہرحال پولس پورے واقعے کی چھان بین کررہی ہے، جس کے بعد ہی سچائی منظر عام پر آنے کی توقع ہے۔